نظم کا عنوان: اے ساقی!
اے ساقی !
یہ کیسی تیری شراب ہے؟
کوئی پی کے بہک جاتا ہے
کوئی پی کے مست ہو جاتا ہے
تو کوئی پی کے بھی تشنہ لب رہتا ہے
مجھے بتا تو سہی
کیا تیرا جام وہ جام نہیں ہے جو تشنگی کو سیراب کرے
یا
بادہ خوار وہ بادہ خوار نہیں جو تیرا جام سنبھال سکے۔
یا تیری نظر میں وہ کمال نہیں جو بادہ خوار کو سنبھال سکے۔۔۔۔۔
بادہ نوش!
یہ مئے کدے کا اصول ہے
کوئی بنجر تو کوئی زرخیز ہے
یہاں گفتگو فضول ہے
اگر بادہ خوار ہی بے نیاز ہے
تو ساقی کا کیا قصور ہے
پیالہ ایک ، ساقی ایک اور جام بھی ایک
پینے والوں میں فرق ہوتا ہے کسی کو شہد ملتا ہے، کسی کو دودھ ملتا ہے، کسی کو زہر ملتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق ایک جام ہے جو پینے والے کا ظرف دیکھ کر پلایا جاتا ہے۔
ازقلم. شامی وِرک
شہر: شیخو پورہ
رابطہ نمبر : 923066938278+

0 تبصرے