افسانہ: مرگ تمنا
مصنف: عمر تنہا
کچے سے گھر کے چھوٹے آنگن میں جلتے ہو ئے چولہے کے پاس پاؤں میں پھٹے پرانے جوتے، تن پر پیوند لگے ملبوس کےادھ کھلے بٹنوں کے پیچھے نظر آتی ہوئی پھٹی بنیا ن رضوان کی حالتِ زار کی ترجمان تھی. جو ہونٹو ں میں سستے برا نڈ کی سگریٹ دبائے کش پہ کش لگا تے ہوئے ایک ٹوٹی ہوئی کر سی پر بیٹھا خیالو ں کی وادیوں میں بڑ ی دیر سے بھٹک رہا تھا۔ گھر میں لگے اکلو تے شیشم کے درخت پربیٹھی دنیا جہاں سے بے خبر بہت سی چڑیاں چہک رہی تھیں مگر رضوان کے آس پاس تنہائیوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ اس ہجوم کے شور میں چڑ یو ں کی چہکا ر اس کی سماعتوں سے ٹکرا سکی اور نہ ہی اس کی تنہائیو ں میں مخل ہو سکی۔ حیدر کے ابا ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے رضوان کی خا مو شی اور تنہائی کے قفل کو نوراں کی آواز نے توڑا ۔ رضوان نوراں کی طرف دیکھتے ہوئے ہونٹوں پر مصنو عی مسکرا ہٹ کو سجا ئے چائے کی پیالی اٹھا کر چنگیر میں پڑ ے ٹھنڈے پرا ٹھے کا ایک نوالہ توڑ تے ہو ئے بے دلی سے ناشتہ کرنے لگا ۔
”وہ میں نے کہا حیدر بار بار بستے کی ضد کر رہا ہے۔ رضوان کھوئی کھوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر کہتا ہے۔” نوراں تجھے حالات کا علم تو ہے ایک ہفتہ سے مزدور ی نہیں مل رہی دعا کرنا آج کام مل جائے ۔“
نوراں بھرائی ہوئی آواز میں بولی” ہاں جانتی ہوں اب تو گھر میں صرف دو دن کا راشن رہ گیا ہے اتنے میں رضوان کا بوڑھا باپ اپنے لرزتے کانپتے ہاتھو ں سے ایک پرچی رضوان کے ہاتھو ں میں تھما کر کہتے ہیں” بیٹا ہو سکے تو آج کھانسی کا یہ سیرپ لازمی لیتے آنا
جی ابو جان آج لازمی لاؤ ں گا
رضوان حالتِ کرب کو چھپا تے ہو ئے بولا "
مگر غم کا سمندر تو اس وقت ٹھاٹھیں ما ر نے لگتا ہے جب اس کی چار سالہ معصوم بیٹی بلقیس حسبِ معمول رضوان کے گلے میں اپنی با نہو ں کا ہار ڈال کر توتلی زبان میں کہتی ہے” ابو ابو آد میلی گڑیا لے کر ہی آنا تل بھی آپ نے وعدہ تیا تھا کہ لا کل دوں گا“ اور رضوان بے بسی کی تصویر بنا حسبِ معمول ہونٹو ں پر جھوٹی مسکان
سجا ئے حسرت و یاس میں ڈوبی آواز
میں اس کو تسلی دیتا ہے ”میری پیاری بٹیا کیا کرو گی گڑ یا لے کر تم تو خود اک گڑیا ہو“ معصوم بیٹی کی فرمائش نے اس پر سوگ طاری کر دیا اور اس کے ذہن کے خا نوں میں یہ شعر گونجنے لگا :
میں بچوں کو امیدو ں کے اثاثے روز دیتا ہوں
کھلو نے دے نہیں سکتا دلاسے روز دیتا ہوں
نور اں آنکھو ں میں آئے ہوئے سیلِ رواں کو رضوان سے چھپاتے ہو ئے بیٹی کو کمرے میں لے جاتی ہے۔ رضوان آس کی شمع کو دل میں جلا ئے ہوئے جب گھر سے نکل رہا تھا تو حسبِ معمول اپنی ماں کے پا س رک کر امید کی ایک کرن اُن کی بوڑ ھی ہوتی ہوئ اشک زدہ آنکھو ں میں دیکھتا ہے نوراں کمر ے کے دروازے میں ایسے کھڑی تھی گویا اس کے واپس آنے کا انتظار اس کے جانے سے پہلے ہی کر رہی ہو وہ ایک نظر اپنی بیو ی بچوں پر ڈالتا ہے پھر اپنی ماں سے دعا لیتا ہوا گھر سے نکل جاتا ہے جب سے ہوش سنبھالا رضوان مستریوں کے ساتھ دہاڑی پر کا کام کیا کرتا تھا۔
آج پھر حسبِ معمول مزدوری ملنے کی آس پر وہ شہر کے چوک میں پہنچا تو قسمت کی دیو ی اس پر مہربان نظر آئی اور تھوڑی دیر ہی میں اسے کام مل گیا ۔
مستری نے سب مزدورو ں کے ذمے کام لگایا تو رضوان کے ہاتھ بھی تیز ی سے سیمنٹ اور ریت کو مکس کر نے لگے وہ اپنے حصے کا ہر کام تیزی سے کرنے لگا. گویا شام کو پیسے ملنے کی آس نے اس کے بدن میں میں جادوئی طاقت بھر دی ہو اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ لمحوں کو منٹوں اور منٹو ں کو گھنٹو ں میں تبدیل کر دے خیر دن گزر ہی گیا شا م کو اس نے آٹھ سو رو پے مزدوری وصول کی یہ آٹھ سو رو پے اس کے لیے قارون کے خزانے سے کم نہیں تھے ۔ رضوان پہلے بازار گیا واپس گھر جلدی لوٹنے کا جنوں اس کے سر پر سوار تھا اس کے بس میں نہیں تھا ورنہ وہ پر لگا کر گھر پہنچ جاتاکئی بار وہ گاڑ یو ں سے ٹکراتے ٹکراتے بچا ۔”شام ہونے کو ہے بیٹی تمہا رے ابو آتے ہی ہوں گے پھر گڑیا سے کھیلنا “نور اں نے روتی ہوئی بلقیس کو چپ کرواتے ہوئے کہا ۔
آج نوراں کی آنکھیں خوشی سے چمک رہیں تھیں کیوں کہ آج رضوان کے گھر جلدی واپس نہ آنے کا مطلب اسے کام کا مل جانا تھا مگر مغرب کی اذان کے ایک گھنٹے بعد بھی رضوان واپس نہ آیا تو انجانے وسو سو ں اور خوف نے نوراں کو گھیر لیا ۔
”امی ابو اب تک کیوں نہیں آ ئے“۔ حید ر بولا رضوان کے ابو بھی نورا ں کے پاس آئے ”بیٹا رضوان ابھی نہیں آیا تکلیف بہت بڑھ گئی ہے “مصلے پہ بیٹھی رضوان کی امی نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا ئے” اللہ میرے بچے کو اپنے حفظ و امان میں رکھ“
اتنے میں دروازے پر کسی گاڑ ی کی ہیڈ لائٹس نظر آئیں تو نوراں کے دل میں کسی انجانے خطرے کی گھنٹیا ں زور و شور سے بجنے لگیں ایسا لگ رہا تھا جیسے دل اچھل کر حلق میں آ جا ئے گا محلے کے کچھ لوگ چار پائی کو اٹھا ئے گھر میں داخل ہو ئے جسم و روح کو منجمد کرنے والا منظر تھا ۔
چارپائی پر رضوان کی لہولہان لاش دیکھ کر کر تمام گھر والوں پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ نوراں اور رضوان کی امی ابو کو غش پڑ رہے تھے حیدر و بلقیس کے معصوم و الم ناک بین نے ارض و سماں کے سینے کو چیر دیا اچانک نوراں کی نظر رضوان کی میت کے سرہانے والی سائیڈ پر رکھے خون آلودہ شاپر پر پڑی اس کو دیوانہ وار کھول کر دیکھا
تو اس میں ایک بستہ ،ٹوٹے
ہو ئے سیر پ کی شیشی اور ایک پچکی ہوئی گڑیا تھی۔

0 تبصرے